قرآن پاک میں اللہ پاک نے چند مقامات پر اپنے لئے جمع کے صیغے ارشاد فرمائے ہیں حالانکہ اللہ پاک واحد ہے اس کی وضاحت فرمادیں۔
قرآن پاک میں اللہ پاک نے چند مقامات پر اپنی ذات کی طرف جمع کا صیغہ منسوب کرتے ہوئے خبر ارشاد فرمائی،جبکہ کچھ مقامات پر واحد کے صیغے کے ساتھ۔جہاں جمع کا صیغہ ارشاد فرمایا وہاں اللہ پاک کی ذات،صفات اور اسما کی طرف اشارہ ہوتا ہے جبکہ واحد والے مقامات پر صرف ذات کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ہمارے لئے حکم یہ ہے کہ اللہ پاک کے لئے واحد کاصیغہ استعمال کرنا بہتر ہے لیکن کوئی تعظیما جمع کا صیغہ بھی استعمال کرے تو حرج نہیں۔صراط الجنان میں ہے:” علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’یاد رکھیں کہ(قرآنِ پاک میں ) جب اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے بارے میں جمع کے صیغہ کے ساتھ کوئی خبر دے تو اس وقت وہ اپنی ذات، صفات اور اَسماء کی طرف اشارہ فرما رہا ہوتا ہے۔۔ اور جب اللہ تعالیٰ واحد کے صیغہ کے ساتھ اپنی ذات کے بارے میں کوئی خبر دے تو اس وقت وہ صرف اپنی ذات کی طرف اشارہ فرما رہا ہوتا ہے۔۔الخ“
(صراط الجنان،جلد9،صفحہ691)
فتاوی رضویہ میں ہے:” اللہ عزوجل کو ضمائر مفردسے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد احد فرد و تر ہے اور تعظیماً ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں۔“
(فتاوی رضویہ،جلد14،صفحہ648)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
ابوالبنات فراز عطاری مدنی
08جمادی الاول5144 ھ23نومبر 2023 ء