زیر تعمیر مسجد کے فنڈ سے بجلی کا بل ادا کرنا کیسا؟
جو چندہ تعمیر مسجد کے لئے کیا گیا ہو اسے تعمیر میں ہی خرچ کرنا ضروری ہے اس سے مسجد کا بل ادا نہیں کر سکتے،ہاں تعمیر مکمل ہونے کے بعد جو چندہ بچ گیا وہ دینے والوں کی اجازت سے دیگر کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں۔فتاوی رضویہ میں ہے:”چندہ کا جوروپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیاجائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صرف ہو، بے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے، ہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کےلئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیں، مثلاً تعمیر مسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیں،غیر کام مثلاً تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریں، اور اگر اس طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں۔“
(فتاوی رضویہ،جلد16،صفحہ205)