بعض اوقات دولہا کرایہ پر شیروانی لیتے ہیں کیا یہ لینا جائز ہے؟
شیروانی اور دیگر لباس پہننے کے لئے کرایہ پر لینا جائز ہےکیونکہ یہ ایسا عین ہے کہ اس سے مباح طریقے سے نفع اٹھایا جاتا ہے۔ھدایہ میں ہے:”اذا استاجر ثوبا للبس و اطلق جاز“ترجمہ:جب کپڑا پہننے کے لئے کرایہ پر لیا اور اس کو مطلق رکھا تو جائز ہے۔
(ھدایہ،جلد3،صفحہ234،دار احیاء التراث العربی)
بحر الرائق میں ہے:”الثوب للبس“یعنی:کپڑے کو پہننے کے لئے کرایہ پر لینا جائز ہے۔
(بحر الرائق،جلد7،صفحہ522،دار الکتب العلمیہ)
بہار شریعت میں ہے:”کپڑ کو پہننے کے لئے کرایہ پر لے سکتا ہے۔“
(بہار شریعت،جلد3،حصہ14،صفحہ128)