ایک چیز مارکیٹ میں 10روپے کی ہے لیکن میں بحث کرکے 8 روپے کی کروالیتا ہوں مگر بل 10 روپے کا بنوا کر کمپنی سے 10 روپے وصول کرتا ہوں کیا یہ اضافی رقم رکھنا میرے لئے جائز ے؟
کسی چیز کا بل زیادہ بنوا کر کمپنی سے اضافی رقم لینا حرام ہے کہ اس میں جھوٹ،دھوکہ اور باطل طریقے سے مال کمانے جیسے گناہ پائے جارہے ہیں اور جو جان کر زیادہ بل بنا کر دیتا ہے وہ بھی حرام میں معاونت کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔ مسلم شریف کی حدیث پاک ہے:”وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا“ترجمہ: اورجو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
(مسلم،جلد 1،کتاب الایمان،باب من غش فلیس منا،صفحہ 69)
المحيط البرهانی میں ہے:”والغدر حرام“ ترجمہ:اور دھوکہ دینا حرام ہے۔
(المحيط البرهانی فی الفقہ النعمانی،جلد2،صفحہ363،دارالكتب العلمیہ،بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:”برتقدیر اول جبکہ یہ جانتا تھا کہ وہ نالش دروغ(جھوٹے دعوے) کے لئے کاغذ لیتا ہے، تو اسے اس کے ہاتھ بیچنا معصیت پر اعانت کرنا ہوا جس طرح اہل فتنہ کے ہاتھ ہتھیار اور معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت،قال اللہ عزوجل(اللہ تعالیٰ فرماتاہے )﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾آپس میں ایک دوسرے کی مددنہ کرو گناہ اور حد سے بڑھنے پر۔“
(فتاوٰی رضویہ،جلد17،صفحہ149)