ایک مولانا صاحب بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جس نے حضورﷺ کو دیکھا اس نے اللہ کو دیکھا ایسا کہنا کیسا؟
حدیث پاک میں یہ الفاظ ہیں کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔اس حدیث پاک کے معنی بعض لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد اللہ پاک کی ذات ہے اور مراد یہ ہے کہ جس نے حضورﷺ کو دیکھا اس نے اللہ پاک کو دیکھا،مگر مطلقا یہ کہنا درست نہیں کیونکہ بعض محدثین نے اس معنی کی تردید کی ہے،ہاں! اس معنی کی جو توجیہ محدثین نے بیان کی ہے اس کے ساتھ یہ والا معنی بیان کرنا درست ہوگا۔بخاری شریف کی حدیث پاک ہے:”من رآنی فقد رای الحق“ ترجمہ:جس نے مجھے دیکھا تو تحقیق اس نے حق دیکھا۔
(بخاری،حدیث6996)
شرح:اس حدیث کے چند معنی کیے گئے ہیں:ایک یہ کہ دیکھنے سے مراد ہے خواب میں دیکھنا اور حق سے مراد ہے واقعی دیکھنا باطل کا مقابل یعنی جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے واقعی مجھے دیکھا وہ شکل خیالی یا شیطانی نہیں میری ہے۔دوسرے یہ کہ تاقیامت جو ولی بیداری میں مجھے دیکھے گا وہ مجھ ہی کو دیکھے گا۔شیطان میری شکل میں اس کے سامنے نہ آئے گا۔۔۔ بعض لوگ اس حدیث کے معنی یہ کرتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد رب تعالٰی کی ذات ہے اور معنی یہ ہیں کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے خدا تعالٰی کو دیکھ لیا کیونکہ حضور انور آئینہ ذات کبریا ہیں جیسے کہا جائے کہ جس نے قرآن مجید پڑھا اس نے رب سے کلام کرلیا یا جس نے بخاری دیکھی اس نے محمد بن اسماعیل کو دیکھ لیا اگرچہ بعض لوگ اس معنی کی تردید کرتے ہیں لیکن ہم نے جو توجیہ عرض کی اس توجیہ سے یہ معنی درست ہیں۔۔الخ“
(مرآۃ المناجیح،جلد6،حدیث4610)