کیا موت کا وقت ٹل سکتا ہے؟
ہر بندے کی موت کا وہ وقت جو اللہ پاک کے علم میں ہے وہ نہیں ٹل سکتا،یہاں تک کہ اس میں ایک سیکنڈ کی کمی بیشی بھی نہیں ہو سکتی،ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ علم الہی میں یہ ہو کہ یہ خود یا کوئی اس کے لئے دعا مانگے گایا یہ رشتے داروں سے صلہ رحمی کرے گاتو اس کی عمر میں اضافہ ہوجائے گا لیکن یہ بات بھی علم الہی میں پہلے سے ہوتی ہے اور اصل عمر ہمیشہ سے رب کو معلوم ہوتی ہے جس کو ہمارے ہاں عمر کا بڑھ جانا کہا جاتا ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌؕ-اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ“ترجمہ:ہر گروہ کے لئے ایک مدت ہے تو جب وہ مدت آجائے گی تووہ لوگ ایک گھڑی نہ تو اس سے پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے ہوسکیں گے۔
(یونس:49)
تفسیر خازن میں ہے:” لا یؤخرون ساعۃ عن الأجل الذي جعلہ اللہ لہم ولا ینقصون عنہ“یعنی:لوگ اس وقت سے ایک گھڑی بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جو اللہ پاک نے ان کے لئے مقدر فرمائی ہے۔
(تفسیر خازن،جلد3،صفحہ83)