کیا سود کی قم مسجد میں لگا سکتے ہیں؟

کیا سود کی قم مسجد میں لگا سکتے ہیں؟

سودی رقم سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اسے بغیر ثواب کی نیت کے شرعی فقیر کو صدقہ کردیا جائے یا جس کی ہے اسے دے دی جائے،کسی بھی نیک کام میں اس رقم کو خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:” کسی بھی نیک کام میں سُود اور مالِ حرام نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ سودی مال کے مُتَعلِّق حکم یہ ہے کہ جس سے لیا اسے واپس کریں یا اس مال کو صدقہ کریں۔۔الخ“

(چندے کے بارے میں سوال جواب،صفحہ45)

اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھے ہیں:” اسے یعنی مال حرام کوخیرات کر کے جیسا پاک مال پر ثواب ملتا ہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہے بلکہ فُقَہاءنے کُفر لکھا ہے ۔ ہاں وہ جو شَرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پر تَصَدُّق کر دے اِس حکم کو مانا تو اِس پر ثواب کی اُمّید کر سکتا ہے۔“

( فتاوی رضویہ،جلد23،صفحہ580)

اپنا تبصرہ بھیجیں