کیا رہن رکھنے سے متعلق کوئی حدیث ہے؟

کیا رہن رکھنے سے متعلق کوئی حدیث ہے؟

احادیث کی کتابوں میں رہن سے متعلق روایات موجود ہیں اور آپﷺ سے بھی رہن رکھنا ثابت ہے اور یہی اس کےجواز کی دلیل بھی ہے،یہ یاد رہے کہ رہن رکھنا تو جائز ہے مگر اس رہن سے نفع اٹھانا سود ہے۔چنانچہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے مسلم شریف میں ایک باب باندھا ہے جس کا نام ہے”باب الرھن و جوازہ فی الحضر کالسفر“ یعنی:رہن اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جائز ہونے کے حوالے سے باب،اسی میں آپ نے بطور دلیل حدیث پاک نقل کی:”عن عائشۃ،قالت:اشتری رسول اللہﷺ من یہودی طعاما بنسیئۃ،فاعطاہ درعا لہ رھنا“یعنی:بی بی عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے،کہتی ہیں کہ نبی پاکﷺ نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ادھار لیا پھر اسے ایک زرہ بطور رہن دی۔

(مسلم،حدیث124۔(1603))

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” رہن کے معنی ہیں حبس یعنی قید کرنا،روکنا،شریعت میں گروی کو رہن کہتے ہیں۔جس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کے حق کی وجہ سے اپنی کوئی چیز حقدار کے پاس رکھ دی جائے کہ جب یہ شخص حق دار کا حق ادا کردے،اپنی چیز لے لے،رہن کا ثبوت قرآن شریف سے بھی ہے حدیث شریف سے بھی۔چنانچہ رب تعالٰی فرماتاہے:”فَرِہٰنٌ مَّقْبُوۡضَۃٌ”اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک یہودی سے کچھ قرض لیا اوراپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت وہ زرہ گروی ہی تھی جو جناب صدیق اکبر نے چھوڑائی۔“

(مرآۃ المناجیح،جلد4،باب السلم و الرہن)

اپنا تبصرہ بھیجیں