کیا تحریری طلاق واقع ہوجاتی ہے یا زبان سے کہنا ہی ضروری ہے؟
جس طرح زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح تحریر میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔عالمگیری میں ہے:” الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ و غیر مرسومہ و نعنی بالمرسومہ ان یکون مصدرا و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب و غیر المرسومۃ ان لا یکون مصدرا و معنونا و ھو علی وجھین مستبینہ و غیر مستبینہ فالمستبینہ ما یکتب علی الصحیفۃ و الحائط و الارض علی وجہ یمکن فہمہ و قراءتہ و غیر المستبینہ ما یکتب علی الھواء والماء وشئی لا یمکن فھمہ و قراءتہ ففی غیر المستبینۃ لا یقع الطلاق وان نوی و ان کانت المستبینہ لکنھا غیر مرسومہ ان نوی الطلاق یقع و الا فلا و ان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو ثم المرسومہ لا تخلو اما ان ارسل الطلاق بان کتب اما بعد فانت طالق فکما کتب ھذا یقع الطلاق و تلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ ففی غیر المستبینۃ لا یقع الطلاق وان نوی و ان کانت المستبینہ لکنھا غیر مرسومہ ان نوی الطلاق یقع و الا فلا و ان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو“یعنی: تحریری طلاق کی دو قسمیں ہیں مرسومہ اور غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ نام وغیرہ سے ابتدا کرے اور عنوان ڈالے جیسے کسی دور گئے ہوئے شخص کو خط لکھا جاتا ہے اور غیر مرسومہ وہ جس میں نام اور عنوان نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں مستبینا اور غیر مستبینا،مستبینہ وہ جو کاغذ،دیوار یا زمین پر اس طرح لکھا جائے کہ اس کو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو اور غیر مستبینہ وہ جو ہوا پانی یا ایسی چیز پر لکھا جائے جس کا سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو تو غیر مستبینہ میں طلاق واقع نہیں ہوتی اگرچہ طلاق کی نیت ہو،اور اگر مستبینہ غیر مرسومہ ہو تو اگر طلاق کی نیت ہوگی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں، اور اگر مرسومہ ہو تو طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو طلاق واقع ہوجائے گی پھر مرسومہ کی یہ صورت ہوگی کہ شوہر (شرط سے مقید کیے بغیر) یوں لکھ کر بھیجے کہ تجھے طلاق ہے تو جس وقت تحریر لکھی اسی وقت طلاق واقع ہوجائے گی اور اسی وقت سے عدت لازم ہوجائے گی۔
(فتاوی عالمگیری،جلد1،کتاب الطلاق،باب فی ایقاع الطلاق،صفحہ 414،دار الکتب العلمیہ)