کفر لزومی واور التزامی کی تعریف،اس میں فرق اور مثالیں بیان کردیں؟
کفر لزومی عین کفر نہیں لیکن کفر کی طرف لے جانے والا ہوتا ہےجیسے صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنھما کی خلافت کا انکار،اور کفر التزامی سے مراد کسی ضروریات دینی کا صاف طور پر انکار کرنا جیسے نماز کا انکار۔اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”ا لتزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحات خلاف کرے یہ قطعا اجماعا کفر ہے اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوٰی کرے۔۔۔ جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان و معجزات انبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا اور اپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے نہ محبت اسلام وہمدردی قوام کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے۔۔ اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضرور دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلاف حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر وامیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اور وہ قطعا کفر ۔۔الخ“
(فتاوی رضویہ،جلد15،صفحہ431)