لڑائی کے دوران بیوی نے کہا تم جہنمی ہو تو شوہر نے کہا کہ اگر میں جہنمی ہوں تو تجھے تین طلاق تو کیا حکم ہے؟

لڑائی کے دوران بیوی نے کہا تم جہنمی ہو تو شوہر نے کہا کہ اگر میں جہنمی ہوں تو تجھے تین طلاق تو کیا حکم ہے؟

معلوم کی گئی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ یہ تعلیق نہیں بلکہ عورت کو ایذا دینا ہے۔ در مختار میں تعلیق کی شرائط میں ہے: ”وان لا يقصد به المجازاة فلو قالت يا سفلة فقال : ان كنت كما قلت فانت كذا تنجیز“ یعنی: اس جملے سے مقصود بدلہ نہ ہو تو اگر عورت نے کہا اے گھٹیا آدمی تو شوہر نے کہا تو نے جیسا کہا اگر میں ویسا ہی ہوں تو تجھے طلاق تو طلاق ہو جائے گی۔ اس کے تحت شامی میں ہے:” سواء كان الزوج کہا قالت اولم يكن ، لان الزوج فى الغالب لا الا يريد الا ايذاءها بالطلاق“ ترجمہ : برابر ہے کہ شوہر ویسا ہو یا نہ ہو جیسا بیوی نے کہا اس لئے کہ شوہر کی عموما ایسے جملے سے طلاق کے ذریعے عورت کو ایذا دینا مراد ہوتی ہے۔

(شامی، جلد 4، صفحہ 582)

اپنا تبصرہ بھیجیں