سعودیہ والوں کا ہندو وفد کو مدینہ اور مسجد قبا وغیرہ کا وزٹ کروانا کیسا؟
غیر مسلموں کا کسی بھی مسجد میں داخلہ منع ہے اور اگر یہ داخلہ مسلمانوں پر غیر مسلموں کو عزت دینے کے طور پر ہو تو حرام ہے۔بعض لوگ اہل نجران یا یہودیوں کے مسجد میں آنے سے استدلال کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں حالانکہ یہ سارے واقعات ممانعت سے پہلے کے ہیں یا اہل کتاب ذمیوں سے متعلق ہیں اور فی زمانہ سارے کافر حربی ہیں اور دوسرا یہ کہ غیر مسلموں کے جو وفود مسجد نبوی میں آتے تھے وہ اسلام لانے یا تبلیغ اسلام سننے کے لئے آتے تھے نہ کہ عزت و احترام کے طور پر ان کو لایا جاتا۔اللہ پاک فرماتا ہے:” فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ“ترجمہ: تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔(التوبہ:28)تفسیر ابن کثیر میں مسند احمد کے حوالے سے ہے:”قال النبیﷺ لا یدخل مسجدنابعد عامنا ھذا مشرک،الا اھل العھد“یعنی:نبی پاکﷺ نے فرمایا:اس سال کے بعد(اہل کتاب)ذمیوں کے علاوہ کوئی مشرک ہماری مسجد میں داخل نہ ہو۔
(تفسیر ابن کثیر،التوبۃ:تحت الآیۃ:28)
تفسیر طبری میں ہے:”ان عمر بن عبد العزیز کتب ان امنعواالیھود والنصاری من دخول مساجد المسلمین“ترجمہ:عمر بن عبد العزیز(رضی اللہ عنہ) نے خط لکھا کہ یہود ونصاری کو مسلمانوں کی مساجدمیں داخل ہونے سے روکا جائے۔
(تفسیر طبری،التوبہ،تحت الآیۃ:28)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’ ائمہ دین نے صاف تصریحیں فرمائیں کہ کافر کا بطور استعلاء مسجد میں جانا مطلقا حرام ہے ۔‘‘
(فتاوی رضویہ ، جلد 14،صفحہ 529)