دیت شرعی اعتبار سے کتنی ہے؟
دیت تین طرح کے مالوں سے ادا کی جاسکتی ہے اور اس میں قاتل کو اختیار ہے جس سے چاہے ادا کرے۔100 اونٹ یا ایک ہزار دینار(یعنی سونے کے سکے)یا دس ہزار دراہم(چاندی کےسکے)۔عالمگیری میں ہے:”کل دیۃ وجبت بنفس القتل یقضی من ثلاثۃ اشیاء فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی من الابل مائۃ ومن العین الف دینار ومن الورق عشرۃ آلاف وللقاتل الخیار یؤدی ای نوع شاء“یعنی:ہر وہ دیت جو نفس قتل کے سبب واجب ہوتی ہے تین طرح کی چیزوں سے ادا کی جائے گی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں،سو اونٹوں سے،ایک ہزار سونے کے سکوں سے اور دس ہزار چاندی کے سکوں سے اور قاتل کو اختیار ہے جس سے چاہے ادا کرے۔
(عالمگیری،جلد6،صفحہ24)