ایک محرمہ نے دوسری محرمہ کے بال کاٹ دیے تو کیا حکم ہے؟

ایک محرمہ نے دوسری محرمہ کے بال کاٹ دیے تو کیا حکم ہے؟

جس کے بال کاٹے گئے اگر اس کے احرام سے باہر آنے کا وقت ہوچکا تھا تو اب دونوں میں سے کسی پر کفارہ نہیں اور اگر احرام سے باہر آنے کا وقت نہیں آیا تھا تو جس کے بال کاٹے اگر چوتھائی سر کے بال ایک پورے کی مقدار کاٹے تو دم واجب ہے اور جس نے کاٹے اس پر صدقہ۔امیر اہلسنت لکھتے ہیں:” اگر اِحرام کھولنے کا وَقْت آگیا ہے ۔تو اب دونوں ایک دوسرے کے بال مُونڈ سکتے ہیں ۔اور اگر وَقت نہیں آیا تو اِس پر کَفّارے کی صورت مختلف ہے۔ اگر مُحرِم نے مُحرِم کا سَرمُونڈا تو جس کا سَر مونڈا گیا اُس پرتو کَفّارہ ہے ہی ، مُونڈنے والے پر بھی صَدَقہ ہے اور اگرمُحرِم نے غیرِمُحرِم کا سَرمُونڈا یا مونچھیں لیں یا ناخُن تراشے تومساکین کوکچھ خیرات کر دے ۔“

(رفیق الحرمین،صفحہ283)

بہار شریعت میں ہے:”مونڈنا، کترنا، موچنے سے لینا یا کسی چیزسے بال اُوڑانا، سب کا ایک حکم ہے۔۔۔ عورت پورے یا چہارم سر کے بال ایک پورے برابر کترے تو دَم دے اور کم میں صدقہ۔“

(بہار شریعت،جلد1،حصہ6،صفحہ1171)

اپنا تبصرہ بھیجیں