ایک شخص دعائے قنوت میں نثنی کو نسنی پڑھتا رہا اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
معلوم کی گئی صورت میں نماز ہوجائے گی کیونکہ معنی فاسد نہیں ہو رہا لیکن جان کر ایسی تبدیلی جائز نہیں۔مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ نثنی ثنا سے نکلا ہے اور اس کا معنی ہے حمد اور نثنی کا معنی بنے گا ہم حمد بیان کرتے ہیں،اسی طرح نسنی السناء سے بنا ہے اور اس کا ایک معنی بلندی اور نسنی کا معنی بنے گا ہم بلندی بیان کرتے ہیں۔المنجد میں ہے:”سنی:سناء:بلندمرتبہ ہونا۔السناء:بلندی۔“(المنجد،صفحہ400)