انڈیا کے ایک مشہور ایکٹر نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک ہندو سے کیا اور نکاح عیسائی انداز میں کروایا گیا اور لڑکا نیکر اور شرٹ پہن کر آیا جس پر مسلمان اس کی سادگی کی تعریف کر رہے ہیں ان سب باتوں پر کیا حکم شرع ہے؟
ایک مسلمان کا اپنی بیٹی کو ہندو کے نکاح میں دینا حرام ہے،یہ نکاح منقعد نہیں ہوا کیونکہ مسلمان کا مشرک مرد خواہ عورت سے نکاح نہیں ہو سکتا۔پھر یہ نکاح اگرچہ منعقد نہیں ہوسکتا لیکن طریقہ عیسائی اختیار کرنا اس کو عزت دینا ہےاورلوگوں کا اس پر تعریف کرنا حرام کام کو پسند کرنا ہے اور یہ دنوں کام ایمان کو ضائع کرنے والے ہیں۔پھر نیکر پہننے کو سادگی قرار دینا انتہا درجے کی جہالت ہےکیونکہ مرد کا ستر ناف کے نیچے سے گھٹنوں کےنیچے تک ہے یعنی گھٹنے ستر میں شامل ہیں،کسی کالوگوں کے سامنےایسا لباس پہننا اور دوسروں کا اس طرف نظر کرنا حرام ہے اور اس حرام کام پر تعریف کرنا بھی حرام ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ“ترجمہ:اور (مسلمان عورتوں کو) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔(البقرہ:221)۔تفسیر:”یہ عورت کے سرپرستوں سے خطاب ہے کہ اپنی مسلمان عورتوں کو مشرکوں کے نکاح میں نہ دو۔ مسلمان عورت کا نکاح مشرک و کافر کے ساتھ باطل و حرام ہے۔مشرک و کافر لوگ تو تمہیں جہنم کی آگ کی طرف بلاتے ہیں جبکہ اللہ تعالٰی تمہیں اپنی مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور تمہیں نصیحت فرمانے کیلئے تم پر اپنے احکام نازل فرماتا ہے۔ اس آیت میں آج کل کے مسلمانوں کے لئے بہت واضح حکم موجود ہے۔انتہائی افسوس ہے کہ قرآن میں اتنی صراحت و وضاحت سے حکم آنے کے باوجود مسلمان لڑکوں میں مشرکہ لڑکیوں کے ساتھ اور یونہی کافر لڑکوں اور مسلمان لڑکیوں میں باہم شادیوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کفارو مسلم اکٹھے رہتے ہیں۔ مغربی طرزِزندگی نیز لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم سے جہاں اور تباہیاں مچی ہوئی ہیں اور بے حیائی کا طوفان امڈ آیا ہے وہیں باہم ایسی حرام شادیوں کے ذریعے زندگی بھر کی بدکاری کے سلسلے بھی جاری و ساری ہیں۔ اس تمام صورتحال کا وبال اُن لڑکوں لڑکیوں پر بھی ہے جو اس میں مُلَوَّث ہیں اور ان والدین پربھی جو راضی خوشی اولاد کو اس جہنم میں جھونکتے ہیں اور ان حکمرانوں اور صاحب ِ اختیار پر بھی ہے جو ایسی تعلیم کو رواج دیتے ہیں یا باوجودِ قدرت اس کا اِنسِداد کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔۔الخ“
(صراط الجنان،جلد1،صفحہ341)