ہم کرکٹ میں پیسے ڈالتے ہیں دوسری ٹیم بھی ڈالتی ہے جو جیت جاتا ہے اس کو پیسے مل جاتے ہیں اور ہم بھی ان پیسوں سے ناشتہ کرتے ہیں کیا حکم ہے؟
ٹیموں کا اس طرح پیسے لگاکر کرکٹ کھیلنا کہ جو جیتے گا اس کو وہ پیسے مل جائیں گے خالص جوا اور حرام ہے، چاہے ان پیسوں سے بعد میں سب ناشتہ کریں یہ حرام ہی رہے گا۔ محیط برہانی میں ہے:”القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز“ ترجمہ:قمار اس قمر سے مشتق ہے جس کا معنی بڑھنا اور گھٹنا ہے۔اسے قمار اس لئے کہتے ہیں کہ مقامرین میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے کا مال لے جائے اور اس کے مال سے فائدہ حاصل کرے تو ان میں سے ہر ایک کا مال کبھی بڑھتا ہے کبھی کم ہوتا ہے۔تو جب مال دونوں طرف سے مشروط ہو تو یہ قمار(جوا) ہے اور جوا حرام ہے اور اس لئے کہ اس میں مال کی ملکیت کو خطرے میں ڈالنا پایا جاتا ہے اور یہ ناجائز ہے۔
(المحیط البرہانی،جلد 5،کتاب الاستحسان و الکراہیۃ،الفصل السابع فی المسابقہ،صفحہ323،دار الکتب العلمیہ)