ہمارے کہاں کوئی غلطی کردے تو اس کو کہتے ہیں جیسی روح ویسے فرشتے ایسا کہنا کیسا؟
اس جملے میں فرشتوں کی توہین نہیں ہے کیونکہ یہ بطور کہاوت کہا جاتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ انسان برا ہوتا ہے تو برے لوگوں اور بری چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے،البتہ اس طرح کے جملے بولنے سے بچنا چاہیے بالخصوص جب کسی کی دل آزاری ہوتی ہو تو پھر یہ بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:”یہ جملہ بطور کہاوت بولا جاتا ہے اس لئے حکم کفر نہ ہوگا کہ یہاں مقصود فرشتوں کی توہین نہیں۔فیروز اللغات صفحہ533 پر اس کے معنی لکھے ہیں:”انسا ن خود برا ہوتا ہے تو اپنے ہی جیسے برے لوگ اور بری چیزیں پسند کرتا ہے۔اس طرح کے جملوں سے احتراز (یعنی بچنا)چاہیے۔“
(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،صفحہ306)