ہمارے دو گھر ہیں ایک گاؤں میں اور ایک شہر میں ہم کبھی ایک گھر میں رہتے ہیں کبھی دوسرے میں تو کیا ان گھروں پر زکوۃ ہوگی؟

ہمارے دو گھر ہیں ایک گاؤں میں اور ایک شہر میں ہم کبھی ایک گھر میں رہتے ہیں کبھی دوسرے میں تو کیا ان گھروں پر زکوۃ ہوگی؟

جو گھر بیچنے کی نیت سے نہ خریدا ہو یا خریدا بیچنے کی نیت سے ہو مگر اب اس میں اپنی رہائش اختیار کرلی ہو تو اس پر زکوۃ نہیں کیونکہ زکوۃ مال تجارت(جو چیز بیچنے کی نیت سے خریدی ہو) پر فرض ہوتی ہے،جو چیز حاجت اصلیہ میں داخل ہو اس پر زکوۃ فرض نہیں۔ قدوری میں ہے:”الزکاۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا“ترجمہ:زکاۃ مال تجارت پر فرض ہوتی ہے جبکہ اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو۔ (قدوری،صفحہ145)

اپنا تبصرہ بھیجیں