ہماری استانی صاحبہ نے بتایا کہ بی بی عائشہ کا قول ہے کہ عورت بغیر زیور نماز پڑھے تو مکروہ ہے ایسا کچھ ہے؟
قدرت ہونے کے باوجود عورت کا بالکل بغیر زیور رہنا شرعا ناپسندیدہ ہے،یہاں تک کہ عورت کو نماز میں بھی کچھ نا کچھ زیور پہننے کی ترغیب دلائی گئی کیونکہ بغیر زیور رہنے میں مردوں سے مشابہت ہے لیکن یہ بے زیور نماز پڑھنا نماز کے مکروہات میں سے نہیں۔اس سےمتعلق حضورﷺ کی حدیث بھی ہے اور بی بی عائشہ رضی اللہ عنھا کا فرمان بھی موجود ہے۔لیکن یاد رہے عورت کو ایسے زیور پہننے کی اجازت نہیں جس کی آواز نامحرم مردوں تک پہنچے۔فتاوی رضویہ میں ہے:” بلکہ عورتوں کا باوصف قدرت بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ مردوں سے تشبہ ہے۔ ۔۔ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مولی علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا : اے علی! اپنے مخدرات کو حکم دو کہ بے گہنے نماز نہ پڑھیں۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا عورت کا بے زیور نماز پڑھنا مکروہ جانتیں اور فرماتیں”کچھ نہ پائے تو ایک ڈوراہی گلے میں باندھ لے۔“
(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ126)