گھر کے اندر اضافی برتن ہوتے ہیں جو ایسے ہی پڑے رہتے ہیں کیا ان پر زکوۃ فرض ہوگی؟

گھر کے اندر اضافی برتن ہوتے ہیں جو ایسے ہی پڑے رہتے ہیں کیا ان پر زکوۃ فرض ہوگی؟

ایسے برتن جو بیچنے کی نیت سے نہیں خریدے گئے ان پر زکوۃ فرض نہیں۔سونے چاندی کے علاوہ گھر میں موجود اضافی برتن جو فقط مہمانوں کے لئے ہوتے ہیں یا ڈیکوریٹ کیے ہوئے ہوتے ہیں ان پر زکوۃ نہیں البتہ ان کی اپنی موجودہ مالیت یا حاجت اصلیہ کے علاوہ دیگر اشیاء کی مالیت کے ساتھ ان برتنوں کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیت کے برابرہوجاتی ہے تو ایسا بندہ زکوۃ لے نہیں سکتا۔بہار شریعت میں ہے:” استعمال کے برتن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان کی وجہ سے عورت غنی نہیں، دوسری وہ چیزیں جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں زینت کے لیے دی جاتی ہیں جیسے زیور اور حاجت کے علاوہ اسباب اور برتن اور آنے جانے کے بیش قیمت بھاری جوڑے، ان چیزوں کی قیمت اگر بقدر نصاب ہے عورت غنی ہے زکاۃ نہیں لے سکتی۔ “ (بہار شریعت،ج1،ص930)

اپنا تبصرہ بھیجیں