کیا مہنگائی کے خوف سے حمل ضائع کروا سکتے ہیں؟

کیا مہنگائی کے خوف سے حمل ضائع کروا سکتے ہیں؟

چارماہ کے بعد حمل ضائع کروانا مثل قتل کے ہے اور چار ماہ سے پہلے بلا عذر کروانا ناجائز ہے۔مہنگائی کے خوف سے حمل ساقط کروانا ناجائز ہے اور قرآن نے اس کی مذمت بیان کی ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ“ترجمہ: اور غربت کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔

(بنی اسرائیل:31)

تفسیر:” زمانۂ جاہلیت میں بہت سے اہلِ عرب اپنی چھوٹی بچیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے، امیر تو اس لئے کہ کوئی ہمارا داماد نہ بنے اور ہم ذلت و عار نہ اٹھائیں جبکہ، غریب و مُفلس اپنی غربت کی وجہ سے کہ انہیں کہاں سے کھلائیں گے، دونوں گروہوں کا فعل ہی حرام تھا اور قرآن و حدیث میں دونوں کی مذمت بیان کی گئی ہے البتہ یہاں بطورِ خاص غریبوں کو اس حرکت سے منع کیا گیا ہے۔ (صراط الجنان،جلد5،صفحہ452)

اپنا تبصرہ بھیجیں