کیا قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے؟اگر ہاں تو باقی حروف کہاں ہیں؟

کیا قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے؟اگر ہاں تو باقی حروف کہاں ہیں؟

احادیث مبارکہ اس بارے میں موجود ہیں کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا لیکن محدثین نے اس کی وضاحت کی ہے کہ یہاں حروف سےمراد لغت یا طریقہ تلاوت ہے یعنی معانی سب کے ایک ہی ہوں گے مگر ادائیگی کے انداز میں فرق ہوسکتا ہے جیسے ایک قراءت میں ننشزھا ”ز“ کے ساتھ ہے اور ایک میں ننشرھا”ر“ کے ساتھ،اسی طرح ایک قراءت میں مٰلک یوم الدین میم کے کھڑے زبر کے ساتھ ہے اور ایک میں مَلک یوم الدین میم کے زبر کے ساتھ مگر ان کے معانی میں فرق نہیں۔یہاں یہ یاد رہے کہ جس مقام پر جو قراءت رائج ہے وہی پڑھنا ضروری ہے جیسے پاک و ہند میں قراءت عاصم بروایتِ حفص رائج ہے۔علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”سبع لغات اوسبعۃ اوجہ من المعانی المتفقۃ بالفاظ مختلفۃ او غیر ذلک من زعم ان القراآت السبع فقد غلط“یعنی:سات حروف سے مراد سات لغتیں یا سات طریقے ہیں یعنی معانی ایک جیسے ہوں جبکہ الفاظ مختلف ہوں یا اس کے علاوہ کوئی صورت بھی ہو سکتی ہے جس نے یہ گمان کیاکہ اس سے مراد سات قراءتیں ہیں تو اس نے غلطی کی۔

(تیسیر شرح جامع صغیر،جلد1،صفحہ353)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” یہاں سات سے مراد بیان زیادتی ہے نہ کہ خاص یہ عدد اور حرف سے مراد طریقہ تلاوت ہے خواہ خود حرف کی ذات میں فرق ہو جیسےنُنْشِزُھَا ز سے اورنُنْشِرُھَارائے مہملہ سے یا صفات حرف میں فرق ہو جیسے”مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ”اور “مَلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ”خواہ طریقہ ادا میں فرق ہو جیسے ادغام اظہار تفخیم،ترقیق،امالہ،مد قصر،تلیین وغیرہ مگر ان اختلاف کی وجہ سے معانی نہ بدلیں گے قرآن کریم کی سات قرأتیں تو متواتر ہیں اور چودہ شاذ،متواتر قرأتوں کی تلاوت کرے شاذ کی نہ کرے جیسے”فصیام ثلثہ ایام متوالیات”یا جیسے”و صلوۃ الوسطی صلوۃ العصر”وغیرہ اب ہماری قرأت ابو حفصعن عاصم والی ہے قاریوں کو چاہیئے کہ اس کی قرأۃ کیا کریں، ورنہ عوام میں فتنہ پھیلے گا اور لوگ ان قرأتوں کا انکار ہی کردیں گے۔“

(مرآۃ المناجیح،جلد3،حدیث2211)

اپنا تبصرہ بھیجیں