کورٹ میرج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے احکامات میں کثیر حکمتیں پوشیدہ ہیں۔اسلام نے نکاح کا جو طریقہ دیا ہےاس سے ہٹ کر طریقہ اختیار کرنا دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔والدین اولاد کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور ان کو اپنی اولاد کی فکر ان سے زیادہ ہوتی ہے۔والدین کی مرضی کے بغیر کورٹ میرج کرنا ہرگز مناسب نہیں کہ اس میں والدین کی دل آزاری،نافرمانی اور رسوائی ہے اور دیگر بھائی بہنوں کے رشتوں میں رکاوٹ کا سبب ہے۔اگرلڑکی نے ولی(سرپرست)کی اجازت کے بغیر ایسے لڑکے سے نکاح کیا جو اس کا کفو نہیں تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:” ہرگز مناسِب نہیں بلکہ لڑکا اگر لڑکی کا کُفو نہ ہواور لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہو تویہ نکاح ہی باطِل ٹھہرے گا! بِالفَرض کُفوبھی مل گیا اور نکاح بھی مُنعَقِد ہو گیا تب بھی کورٹ میں جا کر شادی کرنے والوں سے ماں باپ کی سخت دل آزاری ہوتی، اہلِ خاندان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگ جاتااور دیگر بھائی بہنوں کی شادیوں میں رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ نیز ایسا کرنے سے اکثر غیبتوں ، تہمتوں، عیب دریوں،بدگمانیوں اور دل آزاریوں وغیرہ وغیرہ گناہوں کا دروازہ کُھل جاتا ہے لہٰذا ہرگز ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہئے۔“
(پردے کے بارے میں سوال جواب،صفحہ357)