پیسوں یا مال تجارت پر زکوۃ کے نصاب کا حساب سونے سے ہوگا یا چاندی سے؟
سونا یا چاندی اگر نصاب سے کم ہوں مگر اس کے علاوہ اموال زکوۃ میں سے کچھ موجود ہو تو زکوۃ کا نصاب چاندی کے اعتبار سے ہوگا یعنی اموال زکوۃ کو ملا کر دیکھا جائے گا،اگر ان سب کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کےبرابر ہوجاتی ہے تو زکوۃ فرض ہوگی جبکہ شرائط پائی جائیں۔اسی طرح سونے اور چاندی کے علاوہ کرنسی اور مال تجارت میں بھی زکوۃ کا نصاب چاندی کے اعتبار سے ہوگا۔فی زمانہ چاندی سستی ہے اورچاندی کو معیار قرار دینے میں فقیروں کا زیادہ نفع ہے اس لئے چاندی کے نصاب کو باقی چیزوں کے لئے مقرر کیا گیاہے۔فتاوی رضویہ میں ہے:” جو تقویم فقیروں کے لیے انفع ہو ا سے اختیار کریں، اگر سونے کو چاندی کرنے میں فقراء کا نفع زیادہ ہے تو وہی طریقہ برتیں، اور چاندی کو سونا ٹھہراتے ہیں تو یہی ٹھہرائیں، اور دونوں صورتیں نفع میں یکساں تو مزکی کو اختیار۔“
(فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ120)