میرے دوست نے مجھ سے قرض لیا مگر رقم واپس نہ کرسکا تو میں نے اسے قرض معاف کردیا اب میرا دوست کہتا ہے کہ میں رقم واپس دینے کو تیار ہوں یا مجھ سے اس رقم کے بدلے قرآن پڑھ لو تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟

میرے دوست نے مجھ سے قرض لیا مگر رقم واپس نہ کرسکا تو میں نے اسے قرض معاف کردیا اب میرا دوست کہتا ہے کہ میں رقم واپس دینے کو تیار ہوں یا مجھ سے اس رقم کے بدلے قرآن پڑھ لو تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟

قرض ایک بار معاف کردیا جائے تو دوبارہ اس کو واپس نہیں لے سکتا نہ ہی اس رقم کے بدلے قرآن پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اسی قرض کا بدل ہے جو معاف کیا جا چکا ہے،البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن پڑھانے کا اجارہ کرلیا جائے اور بعد میں وہ اجرت معاف کردے۔شرح مجلہ میں ہے:”لو کان لشخص علی آخر دین فاسقطہ عن المدین ثم بدا لہ رای فندم علی اسقاطہ الدین عن ذلک الرجل فلانہ اسقط الدین وھو من الحقوق التی یحق لہ ان یسقطھا فلا یجوز لہ ان یرجع الی المدین ویطالبہ بالدین لان ذمتہ برات من الدین باسقاط الدائن حقہ فیہ“یعنی:اگر کسی شخص کا دوسرے پر قرض ہو تووہ قرض دار کو قرض معاف کردےپھر اس کی رائے اس پر واضح ہو تو وہ اس کوقرض معاف کردینے پر افسوس کرے تو یہ قرض معاف کردینا ان حقوق میں سے ہے کہ قرض دار کواپنا یہ حق ساقط کردینے کا اختیار ہے مگر اس کو قرض دار سے رجوع کرنے اور اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں اس لئے کہ قرض دار اس ذمہ داری سے بری ہوگیا قرض خواہ کے اپنے اس حق کو معاف کردینے کی وجہ سے۔

(شرح مجلۃ الاحکام،جلد1،صفحہ54)

اپنا تبصرہ بھیجیں