میرے بیٹے کی اسکول کی کتاب میں ایک سوال تھا کہ دنیا کے باغ کامالی کون اور اس کا جواب کتاب میں لکھا تھا اللہ تعالی تو ایسا کہنا کیسا؟
اللہ پاک کو دنیا کے باغ کا مالی کہنا ناجائز وگناہ ہے کیونکہ اللہ پاک کے لئے فقط انہی ناموں کا استعمال کیا جا سکتا ہے جو قرآن و حدیث میں وارد ہوئےہوں، اگروہ لفظ وارد نہیں ہوا نہ ہی واردہ شدہ لفظ کا ترجمہ ہے تو ایسے نام کا استعمال جائز نہیں اور اس صورت میں اگر اس نام میں شان الہی میں کمی کا پہلو ہو تو ممانعت زیادہ ہوگی۔لفظ مالی ہمارے عرف میں باغ میں پودوں کی دیکھ بھال اور پانی ڈالنے والے کو کہتے ہیں جو یقینا شان الہی کے لائق نہیں۔شامی میں ہے:”ان مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع“یعنی:رب کی شان میں محض معنی محال کا وہم بھی منع کے لئے کافی ہے۔
(شامی،جلد6،صفحہ395،دار الفکر)