میری زوجہ کا انتقال ہوا اس کے پاس اس کی والدہ کا دیا ہوا گولڈ تھا،کچھ گولڈ میں نے دیا تھا،کچھ سلے ہوئے کپڑے تھے،کیش تھا اور برتن اور فریج تھا،اس سامان کا کیا حکم ہے؟

میری زوجہ کا انتقال ہوا اس کے پاس اس کی والدہ کا دیا ہوا گولڈ تھا،کچھ گولڈ میں نے دیا تھا،کچھ سلے ہوئے کپڑے تھے،کیش تھا اور برتن اور فریج تھا،اس سامان کا کیا حکم ہے؟

انتقال کے وقت جو سامان آپ کی زوجہ کی ملکیت میں تھا اس پر وراثت کے احکام جاری ہوں گے اور جو ان کی ملکیت میں نہیں تھا وہ عاریۃ دینے والےکی ہی ملکیت ہوں گے۔معلوم کی گئی صورت میں جو سونا آپ کی زوجہ کو ان کی والدہ نے دیا،جو گولڈاور کپڑے آپ نے تحفے میں دیے یا انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے خریدے یا آپ کی طرف سے ملنے والی رقم جو ان کے پاس بچتی تھی اور آپ نے صراحۃ یا دلالہ بطور تحفہ ان کے پاس رہنے دی اور اس کو جمع کر کےانہوں نے سامان خریدا،جو کیش ان کا ذاتی یا ان کو تحفے میں ملا اور دیگر سامان جو ان کو میکے سے ملا یا سسرال والوں نے تحفے کی صراحت کے ساتھ دیا یا سسرال والوں کی برادری کا عرف ہے کہ مالک ہی بناتے ہیں، وہ سب عورت کی ملک ہے اس پر وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔جو چیزیں سسرال سے صرف استعمال کی صراحت کے ساتھ ملا یا برادری کا عرف ہے کہ مالک نہیں بناتے یا وہ رقم جو آپ نے بطور امانت یا صرف گھر کے اخراجات کے لئے دی اور بچ جانے والی رقم کو صراحۃ یا دلالۃ تحفے کے طور پر نہیں دیا ،وہ سب دینے والوں کی ملکیت پر رہے گا اس پر وراثت کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں