قرآن پاک میں اللہ پاک نےمختلف مقامات پر فرمایا کہ اللہ پاک جب کسی امر کا ارادہ فرماتا ہے تو کن فرماتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے تو یہ کن فیکون کی تفسیر کیا ہے؟

قرآن پاک میں اللہ پاک نےمختلف مقامات پر فرمایا کہ اللہ پاک جب کسی امر کا ارادہ فرماتا ہے تو کن فرماتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے تو یہ کن فیکون کی تفسیر کیا ہے؟

مفسرین کے اس سے متعلق مختلف اقوال ہیں۔کئی علما نے یہ بیان کیا ہے کہ یہاں کن فرمانے سے مراد حقیقت میں فرمانا مراد نہیں بلکہ اللہ پاک کی قدرت اور اس کے فرمان پر عمل ہونے کی جلدی کو بیان کرنا مقصود ہے کہ جس طرح مخلوق کوکسی کام کے لئے مختلف چیزوں کی حاجت ہوتی ہے اللہ پاک کو ایسی کوئی حاجت نہیں بلکہ جیسے ہی مامور بہ کا حکم ملا تو وہ بغیر کسی توقف کے وجود میں آگئی۔علامہ سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ سورہ یس کی آیت 82 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:”وذھب غیر واحد الی انہ لا قول اصلا وانما المراد تمثیل لتاثیرقدرتہ تعالی فی مرادہ بامر الآمر المطاع للمامور المطیع فی سرعۃ حصول المامور بہ من غیر امتناع و توقف علی شئی“یعنی:کئی علما اس طرف گئے ہیں کہ یہاں قول تو بالکل نہیں ہوتا اور مراد محض اللہ پاک کی قدرت کے اثر انداز ہونے کی مثال دینا ہے اس کی مراد میں کہ حکم کرنے والیایسی ذات جس کی اطاعت کی جاتی ہے اس کا ایسے کو حکم فرمانا جو مامور بہ کے حصول کی سرعت میں اطاعت گزار ہے بغیر کسی رکاوٹ اورکسی چیز پر موقوف ہوئے۔

(تفسیر آلوسی،یس،تحت الآیۃ 82)

اپنا تبصرہ بھیجیں