روزے میںIV CHEMOTHERAPY کروانا کیسا ؟اس میں بازو،ہاتھ یاسینے کی نس کے ذریعے دوا ڈالی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ڈرپ بھی لگائی جاتی ہے۔
روزے میں IV CHEMOTHERAPY کروانا جائز ہےکیونکہ اس طریقہ علاج میں نس کے ذریعے انجکشن لگوایا جاتا ہے اور روزے میں انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ انجکشن اور ڈرپ میں جو دوا یا غذا ہوتی ہے وہ مسامات کے ذریعے اندر جاتی ہے منفذکے ذریعے دماغ اور معدہ تک نہیں پہنچتی اور قاعدہ ہے کہ جسم کے اندر دوا یا غذا جانے سے روزہ اس وقت ٹوٹے گا جب یہ دماغ یا معدہ تک منفذ کے ذریعے پہنچے جیسا کہ تیل لگانے یا نہانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کہ تیل اور پانی جسم کے اندر جاتا ہے مگر چونکہ یہ بھی مسامات کے ذریعے جاتا ہے اس لئے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طرح انجکشن سانپ کے کاٹنے کی طرح ہے کہ جس طرح اس کے کاٹنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اسی طرح انجکشن لگنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ شرح نقایہ للملا علی قاری میں ہے: ”وصل من غیر الفم دواء الی جوفه او دماغه بان داوی آمۃ و ھی الشجة التی تبلغ ام الدماغ من غیر المسام قید به لانہ لو وصل الی جوفه من المسام لا یقضی کما لو اغتسل بالماء البارد وجد بردہ فی کبدہ و کما لو ادھن فوجد اثر الدھن فی بوله او اکتحل فوجد طعم الکحل فی حلقه و لونه فی بزاقه“ ترجمہ:دوا اگر منہ کے علاوہ کسی اور راستے سے دماغ یا پیٹ میں گئی مثلا آمہ یعنی سر کا وہ زخم جو دماغ کی جھلی تو گہرا ہو اس میں دوا ڈالی تو روزہ ٹوٹ گیا جب کہ یہ دوا مسامات کے ذریعے نہ گئی ہو، مسامات سے نہ جانے کی قید اس لئے لگائی ہے کہ اگر دوا یا غذا مسامات کے ذریعہ پہنچی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا جیسے ٹھنڈے پانی سے غسل کیا اور پانی کی ٹھنڈک کلیجے میں محسوس کی یا تیل لگایا اور تیل کا اثر پیشاب میں پایا یا سرمہ لگایا اور سرمہ کا مزہ حلق میں یا رنگ تھوک میں پایا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔
(شرح النقایة للملا علی قاری،جلد 1، صفحہ 571)