دو خطبوں کے بعد جماعت سے پہلے امام کا اعلان کرنا یا کسی چیز کے بارے میں بتانا جیسے کہ صفوں کو درست کرلیں،موبائل ہو تو بند کرلیں شرعا کیسا ہے؟
دو خطبوں کے بعد نماز شروع کرنے سے پہلے امام کا جماعت سے متعلق کچھ کہنا مثلا صفیں سیدھی کرلیں،موبائل فون بند کرلیں، درست ہے کیونکہ خطیب کا خطبہ کے دوران بھی نیکی کی دعوت دینا درست ہے اور یہاں خطبہ کے بعد کلام کیا جارہا ہے لہذا کوئی حرج نہیں۔البتہ ایسا اعلان جس کا جماعت سے تعلق نہیں جیسے چندہ سے متعلق ترغیب دلانا وغیرہ مناسب نہیں۔درمختار میں ہے:” یکرہ تکلمہ فیھا الا لا مر بمعروف لانہ منہا“یعنی:خطبہ میں خطیب کے لئے صرف نیکی کی دعوت کے لئے بات چیت کرنا درست ہے۔
(درمختار،صفحہ109)
فتاوی رضویہ میں ہے:” یُوں ایک حصہ خطبہ اردو میں ہونا البتہ مکروہ نہیں بلکہ واجب تک ہو سکتا ہے جبکہ ازالہ منکر اسی میں منحصر ہو۔“
(فتاوی رضویہ،جلد8،صفحہ324)