جمعہ کی پہلی اذان کے بعد کاروبار کرنا کیسا؟
جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے کوشش کرنا واجب ہے۔پہلی اذان کے بعد کاروبار کرنے سے چونکہ اس کوشش میں رکاوٹ آئے گی لہذا اس وقت میں کاروبار کرنا ناجائز ہے۔یہاں پہلی اذان سے وہاں کی اذان مراد ہے جہاں نماز پڑھنے کا ارادہ ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ“ترجمہ:اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کیلئے اذان دی جائے تو اللّٰہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ اگر تم جانو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔
(الجمعہ:9)
تفسیر:” اس آیت میں اذان سے مراد پہلی اذان ہے۔۔ اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیت،خرید و فروخت وغیرہ دنیوی مشاغل کی حرمت اور سعی یعنی نماز کے اہتمام کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا ۔“
(صراط الجنان،جلد10،صفحہ137)
بہار شریعت میں ہے:” اذانِ جمعہ کے شروع سے ختمِ نماز تک بیع مکروہ تحریمی ہے اور اذان سے مراد پہلی اذان ہے کہ اُسی وقت سعی واجب ہوجاتی ہے“
(بہار شریعت،جلد1،حصہ11،صفحہ723)