بوسکی کپڑا پہننا کیسا؟
شرعی اعتبار سے مرد کو ریشم کا کپڑا پہننا حرام ہے اور ریشم سے مراد وہ کپڑا ہے جو ریشم کے کیڑوں سے حاصل ہونے والے تار سے بنایا جاتا ہے۔سوال میں جس کپڑے کا ذکر ہے وہ اور اس کے علاوہ دیگر برانڈز جو مارکیٹ میں ریشمی کپڑے کہلاتے ہیں عوام نے ان کپڑوں کی نرمی اور نزاکت کی وجہ سے انکو ریشم سمجھ لیا ہے لیکن ان کپڑوں میں اصلی ریشم نہیں ہوتا بلکہ ان میں پولیسٹر ہوتا ہے یا پھر ریڈیم کی ملاوٹ کر کے اسکو چمکدار بنایا جاتا ہے جس سے وہ ریشم کی طرح لگتا ہے،یہ ہماری تحقیق ہے اگر حقیقتا ایسا ہی ہے تو اس کا استعمال جائز ہے مگر پھر بھی اس سے بچنا بہتر ہے تاکہ لوگ بدگمان نہ ہوں۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: ”اگر یہ چینا سلک نقلی ریشم ہو تو جائز ہوگا جو لوگ اس کے ماہر ہیں وہ شناخت کر سکیں گے کہ یہ اصلی ریشم ہے بہر حال اگر اسکا نقلی ہونا ثابت ہوجائے تو حرام نہ ہوگا پھر بھی احتیاط چاہیے اگرچہ حرام نہ ہو مگر لوگوں کو بدگمانی کا موقع ہے اور ایسے امور سے پرہیز چاہیے۔“
(فتاوی امجدیہ،جلد4،ص64)