بعض لوگ ووٹ کو امانت کہتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں امانت نہیں اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں کہ یہ امانت ہے یا نہیں؟
دونوں باتیں ہی اپنے اپنے معنی کے اعتبار سے درست ہیں۔دراصل ووٹ وہ امانت نہیں جو مالک تک پہنچانا ضروری ہو ورنہ تو ہراہل امیدوار کو ووٹ ڈالنا لازم ہوجائے گا اور اس میں حرج ہے،بلکہ ووٹ مشورے کے اعتبار سے امانت ہے کہ اگر ووٹ ڈالنا ہو تو اہل ہی کو ڈالا جائے۔حدیث پاک میں ہے:”المتشار امین المتشار امین“ترجمہ:جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہے،جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہے۔
(مصنف عبدالرزاق ،جلد10،صفحہ362)
کنزالعمال میں ہے:” من استعمل علی عشرۃ من فیھم ارضی منہ ﷲ تعالٰی فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین“ترجمہ: جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمان سب کی خیانت کی۔
(کنز العمال،حدیث41653)