بعض لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ مجھ سے کس جنم کا بدلا لے رہے ہو ایسا کہنا کیسا؟

بعض لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ مجھ سے کس جنم کا بدلا لے رہے ہو ایسا کہنا کیسا؟

لفظ جنم کا معنی تو پیدائش ہے اور اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ پیدائش ایک ہی بار ہوتی ہے،ایک سے زیادہ بار جنم لینے کا عقیدہ غیر مسلموں کا ہے جو کہ کفر ہے۔سوال میں ذکر کردہ جملہ بولنے کی شرعا اجازت نہیں کہ اس میں غیر مسلموں کے کفریہ عقیدے کی طرف اشارہ ہے لیکن چونکہ بولنے والا اس عقیدے کے ساتھ نہیں بولتا بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کس ظلم کا بدلہ لے رہے ہو لہذا کفر کا حکم نہیں دیں گے۔النبراس میں ہے:”التناسخ ھو انتقال الروح من جسم الی جسم آخروقد اتفق الفلاسفۃواھل السنۃ علی بطلانہ۔۔وقد حکم اھل الحق بکفر القائلین بالتناسخ و المحققون علی ان التکفیر لانکارھم البعث“ترجمہ:روح کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوجانا تناسخ کہلاتا ہے اور فلاسفہ اور اہل سنت اس کے باطل ہونے پر متفق ہیں۔اور تحقیق اہل حق نے تناسخ کا عقیدہ رکھنے والوں پر حکم کفر لگایا ہے اور محققین اس سبب سے حکم کفر لگاتے ہیں کہ اس میں ان کا انکار بعث پایا جارہا ہے۔

(النبراس،صفحہ213)

امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:” انسان بلکہ ہر جاندار صِرف ایک ہی بار پیدا ہوتا ہے ۔مرنے والے کی روح کسی جسم میں داخِل ہو کر دوبارہ جنم لیکر دنیا میں نہیں آتی ۔ ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔“

(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،صفحہ578)

اپنا تبصرہ بھیجیں