اگر کسی کو معلوم ہو کہ یہ چیز چوری کی ہے اس کو خریدنا کیسا؟

اگر کسی کو معلوم ہو کہ یہ چیز چوری کی ہے اس کو خریدنا کیسا؟

کسی چیز کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ چوری کی ہے اس کو خریدنا ناجائز و گناہ ہے بلکہ کوئی واضح قرینہ ہو جس سے گمان ہو کہ یہ چوری کی ہے اس کو خریدنا بھی جائز نہیں۔فتاوی رضویہ میں ہے:”چوری کا مال دانستہ خریدنا حرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے۔“

(فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ165)

اپنا تبصرہ بھیجیں