اگر مسجد میں غسل فرض ہوجائے تو کیا کریں؟
اگر کسی پر مسجد میں غسل فرض ہوجائے تو جس جگہ ہے وہیں تیمم کر کے مسجد سے باہر ہوجائے اور جا کر غسل کرے البتہ مسجد میں ایسی جگہ لیٹا ہو کہ ایک قدم سے مسجد سے باہر فنائے مسجد یا خارج مسجد آجائے گا تو فورا باہر آجائے۔بہار شریعت میں ہے:” مسجد میں سویا تھا اور نہانے کی ضرورت ہوگئی تو آنکھ کھلتے ہی جہاں سویا تھا وہیں فوراً تیمم کر کے نکل آئےتاخیرحرام ہے۔“
(بہار شریعت،جلد1،صفحہ352)
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:” ہاں جو شخص عین کنارہ مسجدمیں ہو کہ پہلے ہی قدم میں خارج ہو جائے جیسے دروازے یا حُجرے یا زمین پیشِ حجرہ (یعنی حجرہ کے سامنے والی زمین )کے متصل سوتا تھا اور احتلام ہوا یا جنابت یاد نہ رہی اور مسجد میں ایک ہی قدم رکھا تھا، ان صورتوں میں فوراََ ایک قدم رکھ کر باہر ہو جائے کہ اس خروج(یعنی نکلنے میں) میں مرور في المسجد (یعنی مسجد میں چلنا ) نہ ہوگا اور جب تک تیمم پورانہ ہو بحال جنابت(یعنی جنابت کی حالت میں) مسجد میں ٹھہرنا رہے گا۔“(فتاوی رضویہ،ج3،ص480)