اگردوران تراویح چھینک آجائے تو کیا اس کا جواب دیں گے؟
تراویح ہو یا کوئی اور نماز اگر چھینک آجائے تو بہتر یہ ہے کہ اس وقت حمد نہ کہے بلکہ بعد میں کہے لیکن اگر اپنی چھینک پر الحمد للہ کہا تو نماز نہیں ٹوٹے گی البتہ کسی اور کو چھینک آئی توجوابا یرحمک اللہ کہنے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔بہار شریعت میں ہے:” کسی کوچھینک آئی اس کے جواب میں نمازی نے یَرْحَمُکَ اللہ کہا، نماز فاسد ہوگئی۔۔۔ نما زمیں چھینک آئے، تو سکوت کرے اور الحمدﷲ کہہ لیا تو بھی نماز میں حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارغ ہو کر کہے۔
(بہار شریعت،جلد1،صفحہ605)