امام صاحب یہ آیت مبارکہ پڑھ رہے تھے وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ؟اس کی جگہ انہوں نے پڑھا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ،نماز کا کیا حکم ہوگا؟

امام صاحب یہ آیت مبارکہ پڑھ رہے تھے وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ؟اس کی جگہ انہوں نے پڑھا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ،نماز کا کیا حکم ہوگا؟

معلوم کی گئی صورت میں نماز ہوگئی کیونکہ اس صورت میں معنی فاسد نہیں ہوا بلکہ قرآن پاک ہی میں جہاں شہیدوں کی ایک اور شان بیان کی گئی ہے،امام صاحب نے وہ پڑھ دی لہذا نماز ہوگئی۔بہار شریعت میں ہے:” اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہوگئی، ورنہ نہیں۔“

(بہار شریعت،جلد1،صفحہ554)

اپنا تبصرہ بھیجیں