امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قبر کو چومنا اور طواف کرنا کیسا؟نیز مزار پر حاضری کا طریقہ بھی بتا دیں۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قبر کا بوسہ لینا منع ہے اور طواف کرناناجائز ہے۔فتاوی رضویہ میں ہے:” مزارات شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے ’’السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ ‘‘ پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار،آیۃ الکرسی ایک بار،سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے تو سورہ یسں اور سورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی! اس قراءت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے،نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اسے میری طرف سے اس بندۂ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دعا کرے اور صاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے، پھر اسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔“
(فتاوی رضویہ،جلد 9،صفحہ522)