اس طرح کا جملہ کہنا کیسا کہ ”میرے پاس جو کچھ ہے وہ میری محنت کی بدولت ہے قسمت کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں“؟
سوال میں ذکر کیا گیا جملہ شرعا جائز نہیں کہ اس میں تقدیر کا انکار کرکے اپنی محنت ہی کو کمال سمجھا جارہا ہے حالانکہ اس کی قسمت میں محنت کے سبب کامیابی لکھی ہوئی تھی،کئی لوگ محنت کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو پاتے۔بہرحال اگر اس جملے سے قائل کی مراد تقدیر کا انکار ہی ہے تو یہ گمراہی ہے۔حدیث پاک میں ہے:” لکل أمۃ مجوس ومجوس ہذہ الأمۃ الذین یقولون لا قدر“ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوس وہ ہیں جو کہتے ہیں تقدیر کچھ نہیں ہے۔
(ابو داؤد،حدیث4692)