اس آیت کی تفسیر بتا دیں اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ؟
اللہ پاک سورہ نور کی آیت 26 میں فرماتا ہے:” اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ- ترجمہ: گندیاں گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے اور ستھریاں ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریوں کے لیے۔تفسیر:”آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ گندے کے لئے گندہ لائق ہے، گندی عورت گندے مرد کے لئے اورگندہ مرد گندی عورت کے لئے اور گندہ آدمی گندی باتوں کے درپے ہوتا ہے اور گندی باتیں گندے آدمی کا وَطیرہ ہوتی ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کیلئے ہیں ۔“ (صراط الجنان،جلد6،صفحہ603)
اس آیت کے متعلق بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زانیہ کا نکاح زانی سے ہی ہوگا اور زانی کا زانیہ سے تو ایسا ہرگز نہیں،پہلے یہ حکم ضرور تھا مگر بعد میں اللہ پاک نےاجازت عطا فرمائی کہ زانی و زانیہ غیرزانی و غیر زانیہ سےنکاح کر سکتے ہیں۔