اسلام نے مرد کو عورت پر افضل کیا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟

اسلام نے مرد کو عورت پر افضل کیا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟

جنس مرد جنس عورت سے افضل ہے لیکن ایسا نہیں کہ ہر ہر مرد ہر ہر عورت سے افضل ہو بلکہ کئی عورتیں لاکھوں مردوں سے افضل ہیں جیسے تمام صحابیات غیر صحابی مردوں سے افضل ہیں۔مرد کی عورت پر فضیلت کی کئی وجوہات ہیں،ان سب کا خلاصہ یہ ہے اللہ پاک نے مرد کو عورت کے مقابلے میں علم اور قدرت زیادہ عطا کی ہے اور کئی کام جن کا تعلق علم یا قدرت سے ہے اس میں مرد فائق ہوتے ہیں۔مفتی قاسم صاحب سورہ نساء کی آیت 34 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:” مرد کے عورت سے افضل ہونے کی وجوہات کثیر ہیں ، ان سب کا حاصل دو چیزیں ہیں علم اور قدرت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد عقل اور علم میں عورت سے فائق ہوتے ہیں ، اگرچہ بعض جگہ عورتیں بڑھ جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ابھی بھی پوری دنیا پر نگاہ ڈالیں تو عقل کے امور مردوں ہی کے سپرد ہوتے ہیں۔ یونہی مشکل ترین اعمال سرانجام دینے پر انہیں قدرت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ مرد عقل و دانائی اور قوت میں عورتوں سے فَوقِیّت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ جتنے بھی انبیاء، خُلفاء اور ائمہ ہوئے سب مرد ہی تھے۔ گھڑ سواری، تیر اندازی اور جہاد مرد کرتے ہیں۔ امامت ِ کُبریٰ یعنی حکومت وسلطنت اور امامت ِصغریٰ یعنی نماز کی امامت یونہی اذان، خطبہ ، حدود و قصاص میں گواہی بالاتفاق مردوں کے ذمہ ہے۔ نکاح، طلاق، رجوع اور بیک وقت ایک سے زائد شادیاں کرنے کا حق مرد کے پاس ہے اور نسب مردوں ہی کی طرف منسوب ہوتے ہیں ، یہ سب قرائن مرد کے عورت سے افضل ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ مردوں کی عورتوں پر حکمرانی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد عورتوں پر مہر اور نان نفقہ کی صورت میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ا س لئے ان پر حاکم ہیں۔ خیال رہے کہ مجموعی طور پر جنسِ مرد جنسِ عورت سے افضل ہے نہ کہ ہر مرد ہر عورت سے افضل۔بعض عورتیں علم ودانائی میں کئی مردوں سے زیادہ ہیں جیسے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا، ہم جیسے لاکھوں مرد اُن کے نعلین کی خاک کے برابر بھی نہیں۔ یونہی صحابیہ عورتیں غیر صحابی بڑے بڑے بزرگوں سے افضل ہیں۔“

(صراط الجنان،جلد2،پارہ 5،صفحہ194)

اپنا تبصرہ بھیجیں