جن موزوں میں ٹخنے ننگے ہوں ان پر مسح

جن موزوں میں ٹخنے ننگے ہوں ان پر مسح

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ جن موزوں میں ٹخنے ننگے ہوتے ہیں ان پر مسح کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

User ID:محمد شبران

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ ایسے موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں ،کیونکہ موزوں پر مسح کرنے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ موزے ایسے ہوں جن میں ٹخنے چھپے جائیں لہذا اگر ایسے موزے جن میں ٹخنے ننگے ہوں ان پر مسح نہیں کر سکتے۔نور الایضاح میں ہے:ويشترط لجواز المسح على الخفين سبعة شروط الأول لبسهما بعد غسل الرجلين والثاني سترهما للكعبين ترجمہ: موزوں پر مسح جائز ہونے کی سات شرائط ہیں پہلی شرط موزے دونوں پاؤں دھو کر پہننا دوسری شرط موزوں کا ٹخنے چھپا لینا۔(الشرنبلالي، مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، صفحة56،المکتبۃ العصریہ)

صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:مسح کرنے کے لیے چند شرطیں ہیں:(۱) موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چھپ جائیں اس سے زِیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اورا گردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مسح درست ہے، ایڑی نہ کھلی ہو۔

(بہار شریعت ،جلد1،حصہ2،صفحہ367،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

18جمادی الاخریٰ 1444ھ/ 6دسمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں