بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھتے ہوئے تکیہ وغیرہ پر سجدہ
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک بوڑھی خاتون سجدہ نہیں کر سکتیں بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے آگے تکیہ وغیرہ رکھ کر اس پر سجدہ کرتی ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
User ID:اظہر حسین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اس طرح آگے تکیہ وغیرہ پر سجدہ کرنا فضول عمل ہے اور اگر تکیے پر سجدہ کرنے کی صورت میں رکوع کی بنسبت کم جھکے تو نماز ہی نہیں ہو گی ورنہ نماز تو ہو جائے گی البتہ آگے اس طرح تکیہ وغیرہ رکھ کر سجدہ نہ کیا جائے بلکہ اشارے سے نماز ادا کی جائے کیونکہ جب بندہ قیام ،رکوع،سجود سے عاجز آ جائے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے اور رکوع و سجود اشارے سے کرے اور رکوع میں کم جھکے اور سجدے میں رکوع کی بنسبت زیادہ جھکے یہی اشارہ اس کے لیے رکوع و سجود کی طرف سے کفایت کرے گا۔فتاوی ھندیہ میں ہے: وإن عجز عن القیام والرکوع والسجود وقدر علی القعود یصلی قاعدا بإیماء ویجعل السجود أخفض من الرکوع ترجمہ: اور اگر بندہ کھڑا اہونے اور رکوع اور سجدہ کرنے سے عاجز آ جائے اور بیٹھنے پر قادر ہو تو بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھے اور سجدے کو رکوع سے پست کرے۔
(الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلاۃ،الباب الرابع عشر فی صلاۃ المریض،جلد1،صفحہ136،دارلفکر،بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
23جمادی الاخریٰ 1444ھ/ 6جنوری 2024 ء