سوال:مفتی صاحب!عصروعشاء کی شروع کی چارسنتوں میں دورکعت پربھول کر سلام پھیردیا اب باقی دورکعات کرنے کے لئے چاردوبارہ پڑھنی ہونگی؟
User ID: Asif Noshai
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عصروعشاء کے فرضوں سے پہلے کی چارسنتیں غیرمؤکدہ ہیں جونوافل کے حکم میں ہیں ان میں اگرچہ نماز شروع کرتے وقت چاررکعات کی نیت کی دورکعات ہی پڑھنالازم ہے لہذاجان بوجھ کریابھول کردوپرسلام پھیردیاتوباقی دورکعات کی قضالازم نہیں۔ہاں چارسنتِ مؤکدہ ،منت کی نماز یافرض والے کے پیچھے نفل نمازپڑھنے والے پرچارہی پڑھنالازم ہے۔
بدائع صنائع میں ہے: وأما بيان مقدار ما يلزم منه بالشروع فنقول لا يلزمه بالافتتاح أكثر من ركعتين، وإن نوى أكثر من ذلك في ظاهر الروايات عن أصحابنا إلا بعارض الاقتداء۔(بدائع صنائع،کتاب الصلوۃ،ج1،ص291،دارالکتب العلمیہ)
بہارشریعت میں ہے:چار رکعت نفل کی نیت باندھی اور شفع اوّل یا ثانی میں توڑ دی تو دو رکعت قضا واجب ہوگی مگر شفعِ ثانی توڑنے سے دو رکعت قضا واجب ہونے کی يہ شرط ہے کہ دوسری رکعت پر قعدہ کرچکا ہو ورنہ چار قضا کرنی ہوں گی۔۔۔سنت مؤکدہ اور منت کی نماز اگر چار رکعتی ہو تو توڑنے سے چار کی قضا دے۔ يوہيں اگر چار رکعتی فرض پڑھنے والے کے پیچھے نفل کی نیت باندھی اور توڑ دی تو چار کی قضا واجب ہے۔ پہلے شفع میں توڑی یا دوسرے میں۔ (بہارشریعت، ج1،ص669،مکتبۃ المدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
تیموراحمدصدیقی
22جمادی الثانی 1445ھ/05جنوری 2024 ء