گوبر کی خرید و فروخت کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ گوبر کی خرید و فرخت کا شرعی حکم کیا ہے ؟
User ID:فیاض احمد خان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ گوبر کا خریدنا اور بیچنا جائز ہے اس لئے کہ گوبر مال ہے اور مال کابیچنا جائز ہے ،اور اس لئے بھی کہ اس سے نفع اٹھانا جائز ہے اور جس چیز سے نفع اٹھانا جائز ہے اس کا بیچنا بھی جائز ہے ۔فتح القدیر میں ہے :’’ولا بأس ببيع السرقين، أنه منتفع به؛ لأنه يلقى في الأراضي لاستكثار الريع فكان مالا، والمال محل للبيع (ملتقطا) ‘‘ترجمہ: گوبر کی بیع میں کوئی حرج نہیں ہے ،اس لئے کہ اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ، اس لئے کے اس کو زمین میں کھیتی بڑھانے کے لئے ڈالا جاتا ہے تو یہ مال ہے اور مال بیع کا محل ہے ۔
( فتح القدیر، کتاب الکراھیۃ ،فصل فی البیع،جلد 10،صفحہ 52،مطبوعہ دار الفکر لبنان )
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت ارشاد فرماتے ہیں:’’ بیع کا جواز،جوازِ انتفاع پر مبنی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ گوبر اور مینگنی سے جب نفع حاصل کرنا جائز ہے تو ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ ،جلد 4،صفحہ 436،مطبوعہ رضا اکیڈمی)
بہار شریعت میں ہے :’’انسان کے پاخانہ کا بیع کرنا ممنوع ہے گوبر کا بیچنا ممنوع نہیں ۔‘‘
(بہار شریعت ،حصہ16،صفحہ 478،جلد 3 ،مطبوعہ المکتبۃ المدینہ )
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
5جمادی الاولی 5144 ھ20 نومبر 2023 ء