ناپاکی کی حالت میں موئے زیر ناف کاٹنا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ غسل فرض ہو تو پہلے زیر ناف کے بال صاف کریں یا پہلے غسل کریں؟
User ID:مدینہ میری جان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ غسل فرض ہو تو پہلے غسل کر کے پھر بال وغیرہ اتارے جائیں کہ ناپاکی کی حالت میں بالوں کو اتارنا مکروہ ہے ۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’حلق الشعر حالة الجنابة مكروه، وكذا قص الأظافير، كذا في الغرائب‘‘. ترجمہ: جنابت کی حالت میں بالوں کا اتارنا مکروہ ہے اور ایسے ہی ناخنوں کا کاٹنا ، ایسا ہی غرائب میں ہے۔
(الفتاوى الهندية،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان الخ،جلد5،صفحہ358،دارالفکر)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
6ربیع الثانی 5144 ھ22 اکتوبر 2023 ء