نابالغ کو زکاۃ کی رقم سے جوتے ،جرابیں لے دینا

نابالغ کو زکاۃ کی رقم سے جوتے ،جرابیں لے دینا

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ سکولوں کے نابالغ مستحق بچوں کو زکاۃ کی رقم سے جوتے جرابیں وغیرہ خرید کر دینے سے زکاۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں ؟

User ID:شیراز نواز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ وہ نابالغ بچہ جس کا والد غنی(مالدار) ہو ایسے کو زکاۃ کی رقم سے یہ چیزیں لے کر دیں یا رقم دی تو زکاۃ ادا نہیں ہو گی کیونکہ نابالغ اپنے باپ کے تابع ہے جب باپ زکاۃ نہیں لے سکتا تو اسکے نابالغ بیٹے کو بھی زکاۃ دینا جائز نہیں اور اگر اس کا باپ شرعی فقیر ہو تو زکاۃ ادا ہو جائے گی۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:وَلَا يَجُوزُ دَفْعُهَا إلَى وَلَدِ الْغَنِيِّ الصَّغِيرِ كَذَا فِي التَّبْيِينِ. وَلَوْ كَانَ كَبِيرًا فَقِيرًا جَازَ، ترجمہ: اور غنی کے نابالغ بچے کو زکاۃ دینا جائز نہیں ایسا ہی تبیین میں ہے اور اگر بچہ بڑا ہو اور فقیر ہو تو جائز ہے۔ ( ’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، جلد1،صفحہ189،دارالفکر)

صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:غنی مرد کے نابالغ بچّے کو بھی نہیں دے سکتے اور غنی کی بالغ اولاد کو دے سکتے ہیں جب کہ فقیر ہوں ۔ (بہار شریعت،جلد1،حصہ5،صفحہ935،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

16جمادی الاولی 5144 /2دسمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں