قرض کی واپسی کسی اور کرنسی سے کرنا
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کسی کو ریال قرض دئیے تھے قرض کی مدت پوری ہونے کے بعد پاکستانی روپوں کے ساتھ قرض کی ادائیگی کرنی ہو تو ریال کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہو گا یا جس وقت لیے تھے اس وقت کی قیمت کا اعتبار ہو گا؟
User ID:خان ابدالی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ قرض ادا کرتے وقت جو ریال کی قیمت ہو گی اسی حساب سے قرض ادا کیا جائے گا قرض لیتے ہوئے جو ریال کی قیمت تھی اس کا اعتبار نہیں کیونکہ قرض کی ادائیگی میں اصل یہ ہے کہ اسے اس کی مثل سےادا کیا جائے۔ المبسوط للسرخسی میں ہے: الأصل بأن الديون تقضى بأمثالها ترجمہ: اصل یہ ہے کہ قرضوں کو ان کی مثل کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔
(كتاب الزكاة،باب العشر،ج2،ص210،ط:مطبعة السعادة)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
29 ربیع الاول 5144 ھ16 اکتوبر 2023 ء
ایک جگہ کے دو راستے اور شرعی سفر کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کسی جگہ جانے کا رادہ ہو وہاں جانے کے لیے بذریعہ ٹرین 88 کلو میٹر سفر ہو اور اور بذریعہ بس 92 کلومیٹر سے زائد ہو تو بندہ مسافر ہوگا یا نہیں؟
User ID:ضمیر عارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر 88 کلو میٹر والی طرف سے جائیں گے تو مسافر نہیں ہوں گے مکمل نماز ادا کرنا ہو گی اور اگر 92 کلومیٹر والی طرف سے جائیں تو مسافر ہو جائیں گے کیونکہ شرعی سفر کے لیے اس راستے کا اعتبار ہو گا جس سے بندہ سفر کرے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: وَتُعْتَبَرُ الْمُدَّةُ مِنْ أَيِّ طَرِيقٍ أَخَذَ فِيهِ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ فَإِذَا قَصَدَ بَلْدَةً وَإِلَى مَقْصِدِهِ طَرِيقَانِ أَحَدُهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَلَيَالِيِهَا وَالْآخَرُ دُونَهَا فَسَلَكَ الطَّرِيقَ الْأَبْعَدَ كَانَ مُسَافِرًا عِنْدَنَا، هَكَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ، وَإِنْ سَلَكَ الْأَقْصَرَ يُتِمُّ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ. ترجمہ:اور جس راستے سے بندہ سفر شروع کرے اس راستے کی لمبائی کااعتبار ہو گا ایسا ہی بحرالرائق میں ہے اور جب اس نے کسی جگہ کا ارادہ کیا اور اس کے سفر کے ارادے والی جگہ کے دو راستے ہوں ان میں سے ایک کی مسافت تین دن اور تین راتیں ہو اور دوسرا راستہ اس سے کم ہو اور بندہ دور مسافت والے راستے پر چلا تو وہ مسافر ہو جائے گا ہمارے نزدیک ایسا ہی فتاوی قاضی خان میں ہے اور اگر کم مسافت والے راستے سے چلے تو مکمل نماز پڑھے گا ایسے ہی بحر الرائق میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ،کتاب الصلاۃ،الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر،جلد1،صفحہ138،دارالفکر)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
29 ربیع الاول 5144 ھ16 اکتوبر 2023 ء